Must think About this.!

لیوس ویلس 1827 میں پیدا هوا- 1905 میں اس کی وفات هوئے- اس کا ایک قول ہے کہ کسی آدمی کی سب سے زیاده آزمائش کا وقت وه هوتا ہے جب کہ بہت زیاده خوش قسمتی اس کے حصہ میں آگئی هو :

مشکل حالات میں آدمی کے بہکنے کا اندیشہ نسبتا کم رہتا ہے- لیکن اگر آدمی کو بڑی کامیابی حاصل هو جائے تو بہت کم ایسا هوتا هے کہ وه بہکنے سے بچ جائے-

اللہ تعالی نے موجوده دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کوئی اچهی چیز بہت زیاده دیر تک کسی ایک شخص یا گروه کے پاس نہ رہے- جوانی کچهہ دنوں کے بعد ڈهل جاتی ہے- دولت کبهی آتی ہے اور کبهی چلی جاتی ہے-

سیاسی اقتدار بار بار ایک ہاتهہ سے دوسرے ہاتهہ میں جاتا رہتا ہے- یہ بگاڑ کے خلاف ایک فطری چیک ہے- یہ اس لئے ہے کہ لوگ ایک حد کے اندر رہیں زیاده بگڑنے نہ پائے-

مزید یہ کہ یہ صورت حال آدمی کی ذاتی اصلاح کے لئے بہت زیاده معاون ہے- حالات کی تبدیلی بار بار لوگوں کو سبق دیتی ہے- اس سے ہر آدمی کو یہ موقع ملتا رہتا ہے کہ وه اپنی حثیت واقعی کو جانے- وه اپنے آپ کو سرکشی اور غرور سے بچائے- وه اس حقیقت سے آشنا هو کہ اس دنیا میں حالات کا سرا اس کے ہاتهہ میں نہیں ہے بلکہ خدا کے ہاتهہ میں ہے- اختیار اور عظمت کا مالک صرف خدا ہے- اس کے سوا کسی اور کے لئے نہ حقیقی عظمت ہے اور نہ حقیقی اختیار-