خراجِ تحسین، !والدین کی نذر

میں جب کبھی پریشان ہوئی تو اپنی والدہ کو خود سے زیادہ پریشان پایا۔کبھی ماں کے د کھتے پاؤں دپانا چاہے تو ماں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ بیٹا تمھارے اپنے ہاتھ دکھ رہے ہیں میری نم آنکھیں دیکھ کر میں نے ماں کو اشکبار پایا ہے۔ماں اپنے ہر درد کو ہمیشہ پسِ پشت ڈالتی رہی، جیسے ہمارے درداسکی اپنی تکالیف پرفوقیت رکھتے ہوں۔۔۔۔میں نے اپنے ہر معاملے میں اپنی ماں کو مجھ سے کہیں زیادہ حساس پایا ہے۔

images (9)

میں خود اداس رہ سکتی ہوں مگر کسی قیمت پر اپنی ماں کو نہیں دیکھ سکتی، اور میری ماں مجھے نہیں دیکھ سکتی۔

images (8)

میرے والد جو دنیا سے لڑ کر بھی بے چین اور کمزور نہیں ہوئے انہیں میں نے اپنی بے چینی پر بہت مضطرب و کمزور پایا ہے۔۔۔۔مجھے اندازہ ہوا کہ میں ہی اپنے والد کی طاقت ہوں اور میں ہی انکی کمزوری۔۔۔
میں اپنے ماما پاپا دونوں کو اکھٹا بیٹھا دیکھ کر اکثر انکے سامنے بیٹھ جاتی ہوں، انھیں دیکھتی رہتی ہوں,بہت سکون ملتا ہے، میں صدیوں تک انکو دیکھ سکتی ہوں۔

images (10)

خوش رہیے تاکہ آپ سے منسلک لوگ خوش رہ سکیں آپ اپنی ذات تک محدود نہیں رہے سو دوسروں کی طاقت بنیں۔۔۔ شکریہ

download (2)

تحریر ثمن سرفراز

9 Likes

very heart warming writing. good effort dear :hugs::heartpulse::+1:

1 Like

Good effort saman

1 Like

:heart:الفاظ کا چناؤ نہایت خوبصورت ہے

1 Like

Good effort dear​:ok_hand:keep it up​:sparkles: Amazing :heart:

1 Like

اللہ ہمارے والدین کو لمبی اور صحت مند زندگی عطا فرمائے. آمین

1 Like

Beautiful work :heart::heart:

1 Like

sarahna ka behad shukriya

really grateful. Always be happy

suma ameen inshaAllah

sada salamat rho dear

really grateful,Always be happy

boht boht shukriya