!ایک نظر فطرت پر

🌿🌾🍂🌸🌻🌹💐🐓🐏ایک نظر فطرت پر
images (24)
مظاہرِ فطرت سب کے لیے یکساں ہیں۔ہر کوئی ان سے فیض اٹھا سکتا ہے ان میں کھو کر خزینے دریافت کر سکتا ہے۔ زندگی کا شِعار ہےسب اپنے کے لیے نہیں کیا جاتا بہت کچھ بے غرض ہو کر دوسروں کے لیے کیا جاتا ہے۔ مثلاََ،۔

😊پھول اپنے لیے نہیں کھلتے ذہن کی بنجر زمین کو سرشار کرنے۔آنکھوں میں امید کے موتی ابھارنے اور اداس چہروں پر مسکان بکھیرنے کے لیے کھلتے ہیں۔جب ایک انسان سخت موسم میں کوئی پھول کھلتے دیکھتا ہے تو وہ اس سے امید اور سخت جانی کا سبق سیکھتا ہے۔

جب ایک بچہ باغ میں غنچہ کھلتے ہوۓ دیکھتا ہے تو بے اختیار اسکی دلکشی کے سحر میں مسحور ہو کر اسے سونگتا ہے، وہ بہت خوش دکھائی دیتا ہے۔

مختلف پیرہنوں میں ملبوس رنگیں پھول زندگی کے گلدان میں مختلف رنگ و ادوار کے عکاس ہیں۔

☺ہوائیں بھی اپنے لیے نہیں چلا کرتیں۔ پھولوں کے لمس سے محظوظ ہونے والی معطر ہوائیں جب اپنا دستِ شفقت ایک اداس انسان پر رکھتی ہیں تو وہ کھلکھلانے لگتا ہے۔ یہ جاندار ہوائیں جب بے جان جسموں کو چھو کر جاتی ہیں تو انکی جان میں جان آجاتی ہے۔ لہذا ہوائیں اپنے لیے نہیں چلا کرتیں۔

☺سورج اپنے لیے نہیں نکلتا ۔ وہ تو رنگ و نسل کے امتیازات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی کرنیں بمع روشنی و حرارت برابر بانٹ دیتا ہے۔

☺بالکل اسی طرح چشمے اپنے لیے نہیں بہتے وہ تو بنجر زمین کے ساتھ پیاسے راہگیروں کو بھی سیراب کیا کرتے ہیں۔ اس فکر سے نا بلد کہ انکے پانی سے فیض یاب کون ہو رہا ہے۔

😊شہد کی مکھیاں فقط اپنے لیے شہد کے چھتے نہیں بناتیں۔ وہ اپنے کام کی تقسیم اپنی ذات کو نفع پہنچانے کے لیے نہیں کرتیں بلکہ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچاتی ہیں، انکی محنت کا دارو مدار خدمت خلق ہے۔ آج بھی ان کے شہد سے لطف ہونے والی ایک بڑی تعداد انسانوں کی ہے۔

☺چوپائے بھی عطاۓ خدا وندی خود تک محدود نہیں رکھتے۔ انکا دودھ فقط انکے لیے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی باقی مخلوقات کے لیے ہوتا ہے۔وہ اپنا گوشت بھی خود نہیں کھاتے۔

☺سبزیاں اپنے لیے نہیں اگا کرتیں۔ باغات میں پھلوں سے لدی سجدہ ریز شاخیں خلقِ خدا کے لیے ہیں یہ اپنی ذات کے سوا سب کو نفع دیتی ہیں۔

😊بادل امتیاذات سے بالا تر سب پر برستا ہے اس فکر سے آزاد کہ وہ اپنا پانی بانٹ رہا ہے۔ وہ خدا کے عطا کردہ پانی کو بانٹنا فرض عین سمجھتا ہے۔ وہ اتنا بانٹتا ہے کہ اسکا اپنا وخود ختم ہو جاتا ہے اور وہ ختم ہو کر بھی قائم رہتا ہے۔

😊بالکل یہی خوبی ایک دیئے کی ہے۔ وہ روشنی بانٹتا ہے اس فکر سے آزاد کہ اس کی حرارت اسکے اپنے وجود کو ڈھال رہی ہے اور وہ آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔ وہ دیا بھی بے لوث خدمت خلق میں زندگی کے شروع سے اختتام تک مصروف رہتا ہے۔

حاصل بحث:

کاش کہ ہم خود کو اصل معنوں میں اشرف المخلوقات ثابت کر سکیں ۔ مندرجہ بالا ساری مثالیں خلقِ خدا کے انصاف اور بے غرضی کی ہیں جو اشرف المخلوقات سے نچلے درجے پر آتے ہیں وہ ہم پر فو قیت لے گئے ہیں۔

اور ہم اشرف المخلوقات ہو کر بھی میں میں کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں۔ ”جناب سب اپنے لیے نہیں کیا جاتا جو لوگ دوسروں کے لیے کرتے ہیں اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے وہی زندہ رہتے ہیں زندگی میں بھی اور اسکے بعد بھی۔سو سب کچھ خود کے لیے نہیں بہت کچھ اپنے دوسروں کے لیے بھی کیا جانا چاہیے۔۔اپنے لیے جینا زندگی نہیں دوسروں کے لیے جینا زندگی ہے۔“

شکریہ

(تحریر: ثمن سرفراز)😇🙂

4 Likes

Very nice :+1:

1 Like

i am grateful