ہم جبرِ مسلسل کی شکایت نہیں کرتے۔۔

ہم جبرِ مسلسل کی شکایت نہیں کرتے
سہتے ہیں غمِ دل تو حکایت نہیں کرتے

جو روح کے بیمار ہیں اور بدلے چلن ہوں
ہم ایسے مریضوں کی عیادت نہیں کرتے

مشہور ہیں ہم اہلِ محبت کے شہر میں
دشمن سے کسی طور عداوت نہیں کرتے

جو چھوڑ چلیں اپنے رفیقوں کو سرِ راہ
ہم اہلِ جنوں ایسی تو محبت نہیں کرتے

کرتے ہیں کبھی آپ جو جذبات کو مجروح
کہتے ہیں اشاروں میں ملامت نہیں کرتے

غم اپنا سجا لیتے ہیں اشعار میں پرواز
ہم آنسو بہانے پہ قناعت نہیں کرتے

بقلم خود
صبا نجیب پرواز۔۔

11 Likes

Behtreen :cherry_blossom::sparkles:

2 Likes

Kehtay hain Isharon me, malamat nahin krtay.

Best Line, from my perspective.

4 Likes

:heart_eyes::ok_hand:behtreen

2 Likes

wah amazing lines :heart_eyes::heart:

1 Like

Nice lines…:blush:

غم اپنا سجا لیتے ہیں اشعار میں پرواز
ہم آنسو بہانے پہ قناعت نہیں کرتے

Its best👌

1 Like