امریکی ماڈل حلیمہ عدن نے مذہب کی خاطر ماڈلنگ چھوڑ دی

حلیمہ عدن نے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ ‘ماڈلنگ کا شعبہ میرے مذہبی عقائد سے مطابقت نہیں رکھتا، کورونا وبا نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ بطور مسلمان خاتون میرے اقدار کیا ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ماڈلنگ کےکام کو قبول کرنا میرے مذہبی خیالات کے خلاف ہے، اس کے لیے میں اپنے آپ کے علاوہ کسی کو الزام نہیں دے سکتی کیونکہ میں نے اسے زیادہ اہمیت دی’۔
ماڈل حلیمہ عدن نے کہا کہ ‘حجاب اوڑھنے والی خاتون کی حیثیت سے میرے سفر میں بہت اتار چڑھاؤ آئے، فیشن کی صنعت میں اصل مسئلہ مسلمان خواتین اسٹائلسٹس کی عدم موجودگی ہے جنہیں یہ سمجھ ہو کہ حجاب پہننا کتنا اہم ہے’
مریکی سپر ماڈل جی جی حدید اور ان کی بہن بیلا حدید نے ماڈل حلیمہ عدن کے اس فیصلے کو خوب سراہا۔

خیال رہے کہ حلیمہ عدن کینیا میں ایک مہاجر کیمپ میں صومالی والدین کے ہاں پیدا ہوئیں اور 6 برس کی عمر میں امریکا منتقل ہوئی۔

حلیمہ عدن نے منیسوٹا کے مقابلہ حسن میں حجاب پہن کر شرکت کے بعد انٹرنیشنل ماڈلنگ ایجنسی کی توجہ حاصل کی جب کہ انہوں نے حجاب سے متعلق ملبوسات کو فیشن ویک کی زینب بنایا۔