طالبان نے ہم جنس پرست شخص کو گرم چائے سے بھری کیتلی پھینک کر جلا ڈالا

UrduDesigner-1635366531889.jpeg_1_600x314
Afaaq Amirkhel

افغانستان کے شہر کے قندھار میں طالبان سپاہی نے گھر سے نکلنے والے ہم جنس پرست شخص کو ابلتی چائے کی کیتلی پھینک کر جلا ڈالا۔ جھلسائے گئے نوجوان آفاق امرخیل کا بتانا ہے کہ اپنا پاسپورٹ بنوانے کی نیت سے انھیں باہر جانا پڑا تو دفتر کے قریب موجود کندھے پر بندوق لٹکائے طالبان جنگجو نے مجھے میرا بازو جھٹک کر اپنی جانب متوجہ کیا، اس استفسار پر کہ میں نے انگریزوں کے کپڑے یعنی پینٹ شرٹ کیوں پہن رکھی ہے میں نے بتایا یہ تو عام کپڑے ہیں جو سبھی پہنتے ہیں، جواب سے مطمئن ہونے کے بجائے سپاہی نے الٹا سوال داغ دیا کہ میں یہاں بازار میں کیا کر رہا ہوں؟ اور بار بار دہرانے لگا کہ تم اصل میں کیا ہو؟ تب مجھے اندازہ ہوا کہ میرے باہر نکلنے کی وجہ سے طالب کو کوئی سروکار نہیں، اس نے میرے رکھ رکھاؤ جو خواتین سے ملتا جلتا ہے، سے میری اصلیت بھانپ لی تھی۔


Afaaq Amirkhel

آفاق نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرے لاکھ بتانے پر بھی کہ میں پاسپورٹ لینے آیا ہوں طالب نے سوال دہرانا بند نہ کیا بلکہ اس کا پارہ مزید چڑھ گیا، مجھے تھپڑ مارنے کے بعد زمین پر گرا کر لاتوں، گھونسوں، ٹھڈوں سے تشدد کیا گیا، بعدازاں طیش میں آ کر طالب نے قریب پڑی پوری کی پوری گرم چائے کی تھرمس نما پتیلی مجھ پر انڈھیل دی، چہرہ دوسری جانب موڑ دینے پر میں اسے تو محفوظ رکھ سکا لیکن جسم کے اُوپری حصے پر جھلسنے سے شدید زخم آئے۔ اس کے بعد ہجوم میں موجود لوگوں میں سے نجانے کس مہربان شخص نے مجھے پکڑ کر اس جگہ سے نکالا مجھے کچھ یاد نہیں پڑتا، میں اس واقعے کے بعد سے اپنے حواس میں نہیں ہوں، ہفتہ بھر سو نہیں سکا، باوجود اسکے خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں نے لب کشائی نہیں کی کہ میں ہم جنس پرست اور ہم جنسوں، خواجہ سراؤں اور زنانہ رحجانات رکھنے والے افراد کی تنظیم کا کارکن ہوں ورنہ نتائج مزید بھیانک ہو سکتے تھے۔ میں اور میرے جیسے سینکڑوں افراد افغانستان میں شدید خطرے سے دوچار ہیں، مغربی دنیا ہمیں تنہا نہ چھوڑے۔

1 Like