برطانیہ: 50 ارب پاؤنڈ مالیت کے نوٹ ’لاپتہ، بینک آف انگلینڈ کی لاعلمی

برطانیہ میں اراکین پارلیمان کی ایک کمیٹی نے کہا ہے کہ بینک آف انگلینڈ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ 50 ارب پاؤنڈ مالیت کی ’لاپتہ‘ برطانوی کرنسی کہاں ہے اور اسے انھیں ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ رقم چھپی ہوئی برطانوی کرنسی کا تین چوتھائی بنتی ہے،برطانیہ میں سب سے زیادہ مالیت کا نوٹ 50 پاؤنڈ کا ہے،یہ کیش کسی لین دین میں استعمال ہوا اور نہ ہی اسے بچت کے طور پر رکھا گیا ہے، لیکن شاید یہ بیرون ملک پڑا ہو، گھروں میں رکھا ہوا ہو یا پھر کالے دھن کی صورت میں ’شیڈو اکانومی‘ یا غیر قانونی معیشت کا حصہ ہو۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا ہے کہ بینک کو کرنسی کی صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں،اگر اتنے زیادہ روپے غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں تو اس کے پبلک پالیسی پر اثرات پڑیں گے۔

بینک آف انگلینڈ کے ترجمان کے مطابق یہ بینک آف انگلینڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بینک نوٹوں کی عوامی طلب پوری کرے،عوام کو یہ بینک کو بتانے کی ہرگز ضرورت نہیں کہ وہ بینک نوٹ کیوں رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کرنسی نوٹ لاپتہ نہیں ہیں۔

کمیٹی کی سربراہی کرنے والے میگ ہلئیر کا کہنا ہے کہ رقم کہیں اور رکھی گئی ہے، لیکن بینک آف انگلینڈ کو یہ نہیں معلوم کہ کہاں، کس کے پاس یا کس مقصد کے لیے۔ اور یہ اس میں بہت زیادہ دلچسپی دکھاتا بھی نہیں نظر آ رہا،بینک کو اس بارے میں زیادہ فکر ہونی چاہیے کہ لاپتہ 50 ارب پاؤنڈ کہاں ہیں،بینک جس قومی کرنسی کو کنٹرول کرتا ہے اسے اس کے بارے میں بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔