پاکستان میں کورونا وائرس کے سبب ڈیجیٹل صارفین کی تعداد41 فیصد بڑھ گئی۔ جانئے پاکستان میں اب کتنے صارفین ای کامرس ، ای بینکنگ،موبائل بینکنگ سے مستفید ہورہے ہیں؟

اسٹیٹ بینک پاکستان نے مالی سال 21-2020 کی پہلی سہ ماہی جولائی تا ستمبر 2020 کی سہ ماہی نظام ادائیگی کی جائزہ رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق مالی سال 2021 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان میں ڈیجیٹل طریقہ ادائیگی کے لین دین میں اضافہ ہوا ہے، جولائی تا ستمبر صارفین نے 19 ٹریلین روپے مالیت کی 253.7 ملین ای بینکاری کی ٹرانزیکشنز کیں۔

ای بینکاری ٹرانزیکشنز میں ریئل ٹائم آن لائن برانچز ٹرانزیکشنز، اے ٹی ایم ٹرانزیکشنز، انٹرنیٹ بینکنگ ٹرانزیکشنز، موبائل فون بینکنگ ٹرانزیکشنز، ای کامرس، پی او ایس اور کال سنٹر اور آئی وی آر بینکنگ شامل ہیں۔ ای بینکاری ٹرانزیکشنز میں ریئل ٹائم آن لائن برانچز ٹرانزیکشنز کا بڑا یعنی تقریباً 80 فیصد حصہ ہے تاہم حجم کے لحاظ سے دیگر اقسام کی ٹرانزیکشنز، ای بینکاری ٹرانزیکشنز سے 83 فیصد زیادہ ہیں۔

آن لائن اور موبائل بینکنگ کے رجحان میں غیرمعمولی حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے سبب ڈیجیٹل صارفین کی تعداد 41 فیصد اضافہ سے 89 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ مالی سال 21 کی پہلی سہ ماہی میں انٹرنیٹ بینکنگ ٹرانزیکشنز بڑھ کر 18.9 ملین ہوگئیں جن کی مالیت 1.1 ٹریلین روپے تھی اور جو گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں حجم کے لحاظ سے 55 فیصد اور مالیت کے لحاظ سے 89 فیصد نمو کو ظاہر کرتی ہے۔

ای کامرس ٹرانزیکشنز میں بھرپور نمو اس طرح بھی دیکھی جاسکتی ہے کہ مالی سال 20 کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں ٹرانزیکشنز کی تعداد اور ان کی مالیت بالترتیب 77 فیصد اور 47 فیصد بڑھیں۔