امریکہ کی 200سالہ تاریخ میں پہلی بار سیاہ فام باشندہ سیکرٹری ڈیفنس تعینات

میرے خیال میں تصور تو کیا جاسکتا ہے کہ اب[ امریکہ-)انگڑائی لینے والا ہے اور[ امریکہ ])کا رخ اور تےرجیحات تبدیل ہونے سے[ دنیا ])میں موجودہ حالات بھی تبدیلی کی لپیٹ میں آجائیں گے۔[ امریکہ )نے[ دنیا ]l)میں حکمرانی کی وجہ نسل پرستی، دشمنی، زور، طاقت
اور دوسروں کو آپس میں لڑوانے کے لیے نفرت تعصب اور مذہبی منافرت کو اپنا آلہ[ کار ]بنا کر رکھا ہوا ہے۔

سیدھی طرح اگر کہا جائے تو ”ڈیوائیڈ اینڈ رول“ والی بات[ امریکیnews)کی سرداری پر فٹ آتی ہے۔تاہم اب[ ڈونلڈ ٹرمپ )کی ہار کے نتیجے میں جوبائیڈن کے[ امریکی )صدر منتخب ہوتے ہیں پہلا ٹھنڈی ہوا کا جھونکا کملا ہیرس کا منتخب ہونا تھااور اس کے علاوہ جوبائیڈن کے دیگرکئی اعلانات جہاں امریکیوں کے لیے مسرت کا باعث بن رہے ہیں وہاں[ دنیا ](بھر کے ممالک بھی انہیں خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ گزشتہ روز نو منتخب[ امریکی )صدر نے ڈیفنس سیکرٹری کے طور پر ایک ایسے شخص کا نام چنا ہے جس کی قوم نسل پرستی کے نام پرامریکہ بھر میں سسک رہی ہے اور انہوں نے[ ٹرمپ ]کے دورحکومت میں بہت برے حالات کا سامنا کیا ہے کہ[ امریکہ ]بھر میں ”مجھے سانس نہیں آرہا“کا نعرہ گونج اٹھا تھا۔جوبائیڈن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہماری قوم کی تاریخ میں پہلی مرتبہ رائٹ پرسن فار دی رائٹ جاب کر رہا ہوں“۔لہٰذا میں اسٹیٹ کا سیکرٹری ڈیفنس کا عہدہ جنرل ریٹائرڈ لائڈ آسٹن کو سونپتا ہوں کیونکہ میری نظر میں یہی اس عہدے کے لیے پرفیکٹ شخص ہے۔آسٹن جو کہ فور اسٹار جنرل ہیں وہ افریقی[ امریکی ])نسل کے پہلے باشندہ ہیں جو ڈیفنس ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ تعینات ہوئے ہیں جبکہ[ امریکہ ]کی تاریخ کو دو سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔آسٹن آج سے چار سال پہلے2016 میں ملٹری سے ریٹائر ہوئے تھے ۔

وبائیڈن کا کہنا تھا کہ یہ شخص[ امریکہکی تاریخ میں فخر کا اضافہ کرے گا اور مجھے آسٹن کی قابلیت پر بھروسہ ہے کہ ہمارے اتحادیوں کے ساتھ بہترین تعاون کے ساتھ آگے بڑھے گااور[ امریکہ )کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔ جوبائیڈن کا یہ بھی کہنا تھاکہ میں امید کرتا ہوں کہ آسٹن سول سپرمیسی کو ملٹری سپرمیسی پر فوقیت دے گا۔جوبائیڈن نے آسٹن کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ[ دنیابھر میں جاری ہمیشگی والی جنگوں کا خاتمہ کرتے ہوئے[ دنیا ])کا امن لوٹائیں گے۔یہ بات تو بجا کہ جنرل آسٹن[ امریکی )تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے[ امریکہ ]کے وسیع تر مفاد میں کام کریں گے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا[ امریکہ )میں جاری سیاہ فاموں کے خلاف تعصب کی نسل پرستی کی جنگ کا بھی خاتمہ کر پائیں گے یا نہیں۔