*ایک درخواست ہے*

گر آپ روزانہ بیس روپے صدقہ کرتے ہیں تو شاید ساری زندگی کسی ایک انسان کو بھی برسرِ روزگار نہیں کر سکتے لیکن اگر اپنے جیسے دس افراد کا گروپ بنا لیں اور وہ دس افراد مزید دس دس لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑ لیں تو یہ تعداد ایک سو ہوجائے گی اور ایک سو افراد روزانہ کے بیس روپے جمع کریں تو مہینہ میں ساٹھ ہزار روپے ہوجائیں گے اور ایک سال میں سات لاکھ بیس ہزار روپے.
:tulip: اب یہ سو افراد کا گروپ چاہے تو چھوٹے قرضِ حسنہ دے کر ہر ماہ کسی ایک بے روزگار کو روزگار دے سکتا ہے اور چند ہی سالوں میں یہ قرض واپس آکر مزید غربت کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ اور ضرورت کے مطابق فی سبیل اللہ بھی کسی کے روزگار کا بندوبست کر سکتا ہے.
:thought_balloon: ذرا سوچیے!
:recycle: ہمارے شہروں میں اگر اس طرح کی بیسیوں کمیٹیاں بن جائیں تو پاکستان کا نقشہ بدل جائے گا مگر یہ کرے کون؟
ہم میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ کوئی اور لیڈر بنے ۔۔۔ ارے بھائی خود آگے آئیے اور اس قوم کے لئے خود ہی کچھ کیجئے۔
:point_left:t2: اسی طرح اگر آپ صرف زکوٰۃ کی تقسیم ہی درست کرلیں تو بھی کایا پلٹ سکتی ہے۔ آپ یہ رقم کسی مستحق کی بحالی پر لگائیے ان شاء اللہ یہ ادائیگی صدقہ جاریہ بن جائے گی۔۔
:open_umbrella: زندگی بہت مختصر ہے اور اس مختصر دورانیہ کے 20 سے 25 سال ہماری تعلیم کھا گئی، 15 سال معیشت کو سنبھالتے سنبھلتے گزر گئے باقی پیچھے بچا کیا ۔۔۔؟؟ اس لئے آج اور ابھی سے کچھ کرنے کا جذبہ لے کر میدان میں اتر جائیے. کچھ کرنے کا جذبہ ہے تو اپنے حصے کی شمع جلائیے. اپنے رشتہ داروں، احباب، فیس بک کھاتہ سے دس لوگ نکالیے اور فوری طور پہ مخلوق کی بھلائی میں لگ جائیے۔